کیا آپ جانتے ہیں کرکٹ ورلڈ کپ سے محروم رہنے والے بڑے کھلاڑی کون ہیں؟

ورلڈکپ جیتنا یقیناً آسان نہیں ہے۔ مایہ ناز انڈین بلے باز سچن تندولکر سے ہی پوچھ لیں۔ اس عظیم شخص کو ورلڈ کپ کی ٹرافی اٹھانے کے لیے چھ بار کوشش کرنا پڑی تو چلئیے انہی سے شروعات  کرتے ہے

سچن تندولکر

سچن تندولکر نے 1989 میں ایک روزہ میچوں میں ڈیبیو کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بن گئے  لیکن اپنے 23 سالہ طویل کیریئر میں انھوں نے چھ ورلڈ کپ کھیلے جن میں سے پہلے پانچ میں وہ انڈیا کو عالمی کپ دلانے میں ناکام رہے لیکن 2011 کے ورلڈ کپ میں یہ ٹائٹل انڈیا کے نام ہوا۔ یہ سچن کے کیریئر کا آخری ورلڈ کپ تھا۔



گراہم گوچ

انگلینڈ کے مایہ ناز بلے باز گراہم گوچ نے کیریئر کا آغاز 1976 میں کیا جبکہ ورلڈ کپ جیتنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انھوں نے تین ورلڈ کپ کے فائنل کھیلے اور سنہ 92 کے عالمی کپ میں اپنی ٹیم کی قیادت بھی کی لیکن ہر بار شکست ہی ان کا مقدر بنی سنہ 1987 کے عالمی کپ میں گراہم گوچ نے ممبئی میں انڈیا کے خلاف سیمی فائنل میں عمدہ سنچری بنائی جس کی بدولت انگلینڈ کو فائنل تک رسائی حاصل ہوئی۔ یہ انگلینڈ کی طرف سے ورلڈ کپ میچوں میں کھیلی جانے والی بہترین اننگز میں سے ایک تھی

این بوتھم

بوتھم نے انگلینڈ کی طرف سے دو ورلڈ کپ کے فائنلز کھیلے۔ وہ انگلینڈ کی تاریخ کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک تھے اور اس پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ انھوں نے عالمی کپ کے دوران بھی کیا بوتھم ہمیشہ سے ہی اچھی باؤلنگ کرتے تھے لیکن سنہ 1992 کے ورلڈکپ میں انھوں نے انتہائی عمدہ باولنگ کا مظاہرہ کیا اس ٹورنامنٹ میں انھوں نے 10 میچوں میں 16 وکٹیں حاصل کیں جس کی بدولت انگلینڈ کی ٹیم فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ اس کے علاوہ ان کی وجہ شہرت جارحانہ انداز سے بلے بازی کرنا بھی تھا۔ وہ بیٹنگ آرڈر میں شروع اور آخر میں تیز کھیلنے میں مہارت رکھتے تھے  بوتھم شاید ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے جب کرکٹ میں عظیم کھلاڑیوں کی ریل پیل تھی جس کی وجہ سے وہ اتنی کامیابیاں نہیں سمیٹ سکے جس کے وہ شاید اصل حقدار تھے۔

وقار یونس

ماضی کی ان تلخ یادوں کو دوبارہ سے تازہ کرنا آسان نہیں ہے۔ ایسی ہی ایک تلخ یاد وقار یونس سے جڑی ہے جو بلاشبہ اپنے دور کے بہترین بولرز میں سے ایک تھے وقار کی بدقسمتی یہ تھی کہ ان کا نام 1992 کی ورلڈ کپ ٹیم میں تو تھا اور وہ ٹیم کے ساتھ آسٹریلیا بھی گئے لیکن زخمی ہونے کے باعث انھیں وطن واپس لوٹنا پڑا  پاکستان نے وہ ورلڈ کپ تو جیت لیا لیکن وقار کی یہ حسرت باقی رہی۔ انھوں نے اس کے بعد مزید تین ورلڈ کپس میں شرکت کی اور سنہ 1999 میں تو وہ اس ٹیم کا بھی حصہ تھے جو ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچی تھی لیکن جیت کا یہ خواب فقط ایک خواب ہی رہا 1992 کے ورلڈ کپ میں وسیم اکرم نے بہترین باؤلنگ کی اور ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ لیکن ان کے ساتھ باؤلنگ کروانے والے وقار یونس وہاں موجود نہیں تھے وقار یونس کو پرانی گیند سے ریورس سوئنگ کرانے کا موجد بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے خلاف اننگز کے آخری حصے میں جارحانہ انداز سے بلے بازی کرنا تقریباً ناممکن ہوتا تھا اور نئی گیند سے عمدہ باؤلنگ کرنے کی بدولت انھیں ’دی بورے والا ایکسپریس‘ بھی کہا جاتا تھا  وقار ایک روزہ میچوں کے بہترین بولر تھے۔ ان کے پاس اس فارمیٹ میں اننگز سب سے زیادہ پانچ وکٹیں لینے کا اعزاز ہے



سارو گنگولی

سارو گنگولی نے اپنے مختصر کیریئر کے دوران تین ورلڈ کپ کھیلے اور سنہ 2003 میں انڈیا کی اس ٹیم کی سربراہی کی جو ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچی  ان کی انفرادی قابلیت پر تو کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔ سنہ 2003 کے ورلڈ کپ کے دوران انھوں نے تین سنچریاں بنائیں ان کی وجہ شہرت انڈیا کے نئے آنے والے کھلاڑیوں کی تربیت کرنا تھا

گنگولی ایک جارحانہ اور بے باک کپتان تھے جنھوں نے انڈیا کی ٹیم میں لڑنے کا جذبہ پیدا کیا۔ ان کی کپتانی میں انڈیا کی ٹیم ناصرف اپنے گھر میں بلکہ دنیا بھر میں ایک بہترین ٹیم بن کر سامنے آئی 

سنہ 2007 کے ورلڈ کپ میں گروپ مرحلے میں ناکامی کے بعد گنگولی نے ایک روزہ میچوں کو خیرباد کہہ دیا۔ لیکن بدقسمتی سے سنہ 2011 میں جب انڈیا نے ورلڈ کپ جیتا تو گنگولی اس ٹیم میں شامل نہیں تھے۔

برائن لارا

برائن لارا کے ٹیسٹ میچوں میں ریکارڈ تو کرکٹ کے تمام شائقین کو معلوم ہی ہیں لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ پورٹ آف سپین کا شہزادہ ایک روزہ میچوں میں بھی ویسے ہی رنز بناتا تھا جیسے ٹیسٹ میچوں میں ان سے پہلے بہت کم کھلاڑیوں نے ایک روزہ میچوں میں 10 ہزار سے زائد رنز بنائے تھے۔ آج بھی وہ سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں دسویں نمبر پر ہیں لارا نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں 299 میچ کھیلے لیکن ان کا شمار ان کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے انفرادی اننگز میں تین دفعہ 150 سے زائد رنز بنائے لارا کا شمار دنیا کہ پرجوش ترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ لارا نے دنیائے کرکٹ میں اس وقت قدم رکھا جب ویسٹ انڈیز اس پر راج کے آخری ادوار سے گزر رہا تھا



لانس کلوزنر

لانس کلوزنر ’زولو‘ کے لقب سے جانے جاتے تھے کیونکہ وہ زولو زبان روانی سے بولتے تھے۔ لانس کلوزنر ایک اعلیٰ پائے کے آل راؤنڈر تھے کلوزنر ٹیسٹ میچوں کے بہترین کھلاڑی تھے لیکن سنہ 1999 کے ورلڈ کپ میں انھوں نے ایک روزہ میچوں میں اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا لیکن بدقسمتی سے جنوبی افریقہ کی ٹیم ایک انتہائی سنسنی خیز سیمی فائنل مقابلے کے بعد میچ برابر کرنے میں ہی کامیاب ہو سکا، جو اس کی فائنل تک رسائی کے لیے کافی نہیں تھا سنہ 1999 کے ورلڈ کپ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز پانے والے کلوزنر اپنی جارحانہ بیٹنگ اور نپی تلی باؤلنگ کی وجہ سے ایک اہم کھلاڑی گردانے جاتے تھے۔ سنہ 2000 میں انھیں کرکٹ میگزین وزڈن کی طرف سے سال کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا بیس بال کھیلنے والے انداز میں بلے بازی کرنے والے کلوزنر نے اس ورلڈ کپ کے بعد بھی تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھائی۔ ریٹائرمنٹ کے وقت ان کی بیٹنگ اوسط 41 جبکہ باؤلنگ اوسط 29 تھی  جس کے باعث ان کا شمار ناصرف جنوبی افریقہ بلکہ دنیا کے عظیم آل راؤنڈرز میں بھی ہوتا ہے

جیک کیلس

لانس کلوزنر کے بعد جنوبی افریقہ کے عظیم آل راؤنڈر جیک کیلس کا نام لینا ضروری ہے۔ کیلس نے ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں رنز اور وکٹوں کے انبار لگائے انھوں نے ایک روزہ میچوں میں 273 وکٹیں حاصل کیں اور 11 ہزار سے زائد رنز بنائے۔ سری لنکا کے سنتھ جے سوریا کیلس کے بعد دنیا کے دوسرے ایسے آل راونڈر ہیں جنھوں نے 10 ہزار سے زائد رنز اور 250 وکٹیں حاصل کی تھیں  کیلس نے اپنے کیریئر میں 17 سنچریاں اور 85 نصف سنچریاں بنائیں۔ وہ ہر صورتحال میں کھیلنے والے کھلاڑی تھے۔ ٹیم کی ضرورت کے مطابق وہ محتاط اور جارحانہ دونوں انداز سے کھیلتے تھے افسوس کی بات یہ ہے کہ جیک کیلس سمیت جنوبی افریقہ کے دیگر عظیم کھلاڑیوں کو بھی ورلڈ کپ جیتنے کا موقع نہیں مل سکا

کمارسنگاکارا

کمار سنگاکار نے جس انداز سے 2015 کے ورلڈ کپ میں ساندار پرفارمنس کے بعد کرکٹ کو خیرباد کہا وہ ایک روزہ میچوں میں ان کی عظمت کو ثابت کرتا ہے کمار سنگاکار نے جس انداز سے 2015 کے ورلڈ کپ میں ساندار پرفارمنس کے بعد کرکٹ کو خیرباد کہا وہ ایک روزہ میچوں میں ان کی عظمت کو ثابت کرتا ہے بہت عرصہ تک وہ بیٹنگ کے ساتھ وکٹ کیپنگ کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے لیکن اپنے کیریئر کے اختتام پر انھوں نے وکٹ کیپنگ چھوڑ دی جس کے باعث وہ تیزی سے رنز بنانے لگے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کے اختتام پر صرف سچن ٹنڈولکر کے رنز ان سے زیادہ تھے ایک افسوس جو شاید انھیں ہمیشہ رہے گا وہ یہ کہ انھوں نے کبھی کوئی ورلڈ کپ نہیں جیتا۔ ورلڈ کپ 2007 اور 2011 کے فائنلز میں آنے کے باوجود سری لنکا کی ٹیم فتح سے ہمکنار نہ ہو سکی حالانکہ ان دونوں ٹورنامنٹس میں ان کی بیٹنگ اوسط 50 سے زائد رہی۔

اے بی ڈی ویلیرز

اے بی ڈی ویلیرز اپنے بلے کے ساتھ وہ کچھ کر سکتے تھے جس کے بارے میں کوئی اور بلے باز سوچ بھی نہیں سکتا ان کا 100 سے زائد کا سٹرائک ریٹ بھی انھیں منفرد بناتا ہے۔ اس سب میں ان کی 31 گیندوں پر بنائی گئی تیز ترین سنچری صرف اعداد و شمار کی بنا پر انھیں عظیم بنا دیتی ہے لیکن جب وہ بیٹنگ کرنے آتے تھے تو اعداد و شمار کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے وہ ایسی شاٹس مارتے تھے جو کوئی اور نہیں مار سکتا تھا۔ وہ اننگز کے آخری حصے میں باؤلرز کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوتے تھے اور سیکنڈز میں مخالف ٹیم کے ہاتھوں سے جیتا ہوا میچ چھین لیتے تھے وہ ٹینس، ہاکی اور گالف میں بھی مہارت رکھتے تھے جس کی وجہ سے انھیں وہ قوت، ٹائمنگ اور نفاست حاصل تھی جس کی بدولت وہ گراونڈ کے ہر کونے میں کھیل سکتے تھے ڈی ویلیرز نے 2015 کے ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کو سیمی فائنل میں فتح کے دہانے پر لا کھڑا کیا لیکن ہمیشہ کی طرح ان کی ٹیم ’چوک‘ کر گئی اور ڈی ویلیرز بغیر کوئی ورلڈ کپ جیتے کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے۔



شاہد آفریدی

کسی کو ’بوم بوم‘ کا لقب ایسے ہی نہیں مل جاتا شاہد آفریدی نے سنہ 1996 میں اپنی جارحانہ بیٹنگ کے ذریعے خود کو دنیا میں متعارف کروایا۔ لیکن ان کا کیریئر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بطور کھلاڑی تبدیل ہوئے ہیں ہاں وہ لمبے چھکے مارتے تھے اور سنہ 1996 میں 37 گیندوں پر تیز ترین سنچری بنانے کا ریکارڈ بہت عرصے تک ان کے نام رہا لیکن ساتھ ہی وہ اپنی لیگ سپن کی بدولت سب سے زیادہ وکٹیں لینے والوں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر بھی ہیں اس سب میں آفریدی کی کپتانی بھی ملا دی جائے تو ان کا شمار ان عظیم کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے کرکٹ کے کھیل میں جدت ڈالی اور جس سے شائقین کی دلچسپی میں اضافہ ہوا۔

courtesy by bbc.com/urdu